Skip to content
Mon–Sat, 9:00 AM – 10:00 PM0331 9999 129 Book a consultation

ہوم » پاکستان میں کورٹ میرج: طریقہ کار اور ضروری کاغذات

پاکستان میں کورٹ میرج: طریقہ کار اور ضروری کاغذات

پاکستان میں کورٹ میرج وہ نکاح ہے جو وکیل کی مدد سے پڑھایا اور مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کے تحت رجسٹر کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی الگ سول شادی نہیں۔ دونوں فریقین کی آزادانہ رضامندی ضروری ہے اور جہاں نکاح ہو رہا ہے وہاں کی کم از کم عمر پوری ہونی چاہیے: اسلام آباد، پنجاب اور سندھ میں دونوں کے لیے 18 سال۔

قانونی جائزہ: فہمیدہ ناز شیخ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ · آخری جائزہ: 4 نومبر 2026

کم از کم عمر
اسلام آباد، پنجاب اور سندھ میں دونوں کے لیے 18 سال
والدین کی رضامندی
بالغ افراد کے لیے قانوناً ضروری نہیں
رجسٹریشن
یونین کونسل، پھر نادرا کا MRC
ہم کہاں انتظام کرتے ہیں
اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں

کورٹ میرج کیا ہے؟

“کورٹ میرج” کا لفظ پاکستان میں اس شادی کے لیے عام ہے جو دو قانونی طور پر اہل بالغ افراد اپنی آزاد مرضی سے وکیل کی مدد سے کرتے ہیں، اور پھر نکاح نامہ مکمل کر کے نکاح رجسٹرار اور یونین کونسل کے ذریعے رجسٹر کراتے ہیں۔

عام طور پر جج عدالت کے کمرے میں نکاح نہیں پڑھاتا۔ نکاح اسلامی تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے، ضرورت ہو تو بیان حلفی تیار کیے جاتے ہیں، نکاح نامے پر دستخط ہوتے ہیں اور شادی رجسٹر ہوتی ہے۔ کورٹ میرج نکاح کی کوئی الگ قسم نہیں۔

کیا کورٹ میرج قانونی ہے؟

جی ہاں۔ قانونی طور پر اہل افراد کی آزاد مرضی سے ہونے والی شادی جائز ہے، بشرطیکہ قانونی اور مذہبی تقاضے پورے ہوں۔ خاندان کا اختلاف، بذات خود، بالغ اور اہل افراد کی درست شادی کو باطل نہیں کرتا۔

نوٹ: عمر کی شرط اور دیگر کارروائی صوبے، مذہب، سابقہ ازدواجی حیثیت، قومیت اور دوسرے حالات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔

شادی کی کم از کم عمر

  • اسلام آباد: دلہن 18، دولہا 18۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025۔
  • پنجاب: دلہن 18، دولہا 18۔ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026۔
  • سندھ: دلہن 18، دولہا 18۔ سندھ چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ ایکٹ 2013۔
  • بلوچستان: دلہن 18، دولہا 18۔ بلوچستان چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ ایکٹ 2025۔
  • خیبر پختونخوا: دلہن 16، دولہا 18۔ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 (ابھی کوئی صوبائی ایکٹ نہیں)۔

جہاں نکاح ہو رہا ہے وہاں کا قانون لاگو ہوتا ہے۔ کم عمری کی شادی جرم ہے؛ یہ کورٹ میرج کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ 18 سال کی عمر والے قوانین کے خلاف درخواستیں وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔

کورٹ میرج کا طریقہ: چھ مراحل

  1. اہلیت دیکھیں۔ دونوں فریقین کی عمر وہاں کے قانون کے مطابق پوری ہو اور رضامندی آزادانہ ہو۔
  2. کاغذات اور حق مہر۔ اصل شناختی کارڈ (غیر ملکیوں کے لیے پاسپورٹ)، تصاویر اور گواہوں کے شناختی کارڈ۔ نکاح نامہ بھرنے سے پہلے حق مہر کی رقم اور ادائیگی کا طریقہ طے کر لیں۔
  3. بیان حلفی، اگر ضرورت ہو۔ حالات کے مطابق وکیل بیان حلفی کا مشورہ دے سکتا ہے، مثلاً آزاد مرضی اور ازدواجی حیثیت کی تصدیق کے لیے۔
  4. نکاح رجسٹرار کے سامنے نکاح۔ اسی دن۔ گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہوتا ہے اور نکاح نامہ مکمل کر کے دستخط کیے جاتے ہیں۔ دستخط سے پہلے ہر خانہ پڑھ لیں (مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961، دفعہ 5)۔
  5. یونین کونسل میں رجسٹریشن۔ چند دن سے چند ہفتے، علاقے کے لحاظ سے۔ نکاح رجسٹرار شادی یونین کونسل میں رجسٹر کراتا ہے۔
  6. نادرا کا میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (MRC)۔ یونین کونسل نادرا کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ نکاح نامہ اور MRC ساتھ رکھیں؛ بہت سے ادارے دونوں مانگتے ہیں۔

کون سے کاغذات چاہییں؟

  • پاکستانی شہری: دولہا اور دلہن کے اصل شناختی کارڈ اور ان کی نقول۔
  • تصاویر: اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دلہن کی پاسپورٹ سائز چھ تصاویر؛ سندھ (کراچی) میں دونوں کی چھ چھ تصاویر۔
  • بیرون ملک مقیم پاکستانی: کارآمد پاکستانی پاسپورٹ، اور شناختی کارڈ یا نائیکوپ (جوڑے میں سے کم از کم ایک کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہو)؛ پاکستان میں آمد اور پتے کی تفصیل؛ ضرورت ہو تو امیگریشن کے مزید کاغذات۔
  • غیر ملکی شریک حیات: اصل پاسپورٹ اور کارآمد پاکستانی ویزا یا آمد کا ریکارڈ؛ پاکستانی شریک حیات کا اصل شناختی کارڈ اور نقل؛ جہاں ضرورت ہو ازدواجی حیثیت کا ثبوت؛ جہاں قانوناً متعلقہ ہو قبول اسلام کا سرٹیفکیٹ۔
  • پہلے طلاق یا خلع: یونین کونسل کا سرٹیفکیٹ یا نادرا کا طلاق سرٹیفکیٹ۔
  • بیوہ یا رنڈوا: سابق شریک حیات کا وفات سرٹیفکیٹ۔
  • سب کے لیے: طے شدہ حق مہر (رقم، اور معجل یا مؤجل)؛ دو گواہ اور ان کے شناختی کارڈ؛ نکاح نامے کے لیے پتے اور والدین کے نام۔

حتمی فہرست قومیت، مذہب، سابقہ ازدواجی حیثیت اور رجسٹریشن کی جگہ پر منحصر ہے۔ وکیل ملاقات سے پہلے اس کی تصدیق کرتا ہے۔

رجسٹریشن کیوں ضروری ہے؟

رجسٹریشن سے سرکاری ریکارڈ بنتا ہے۔ یہ امیگریشن، نادرا کے ریکارڈ، وراثت، انشورنس اور عدالتی معاملات میں کام آتا ہے، جن میں بیوی اور بچوں کے خرچے کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

کمپیوٹرائزڈ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کو MRC یا عام زبان میں “نادرا میرج سرٹیفکیٹ” کہتے ہیں۔ شادی مقامی ادارے کے ذریعے رجسٹر ہوتی ہے؛ نادرا نکاح نہیں پڑھاتا۔

غیر ملکی شریک حیات اور بیرون ملک مقیم پاکستانی

پاکستانی شہری قانونی اور دستاویزی تقاضے پورے کر کے پاکستان میں غیر ملکی سے شادی کر سکتا ہے۔ حتمی فہرست غیر ملکی فریق کی قومیت، مذہب، ازدواجی حیثیت، ویزا اور رجسٹریشن کرنے والے ادارے پر منحصر ہے۔ بہتر ہے کہ غیر ملکی کاغذات سفر سے پہلے دکھا لیے جائیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی اکثر کم وقت کے لیے آتے ہیں، اس لیے کاغذات آمد سے پہلے دیکھے جا سکتے ہیں تاکہ کمی پہلے پوری ہو جائے۔ جو لوگ یہ کاغذات کسی دوسرے ملک میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہ متعلقہ ادارے سے ترجمے اور تصدیق کی شرائط بھی معلوم کر لیں۔

عام سوالات

کیا والدین کی اجازت ضروری ہے؟

بالغ افراد کے لیے قانوناً ضروری نہیں۔ خاندان کا اختلاف، بذات خود، بالغ اور اہل افراد کی درست شادی کو باطل نہیں کرتا۔

کیا نادرا نکاح کرواتا ہے؟

نہیں۔ نکاح نکاح رجسٹرار کے ذریعے رجسٹر ہوتا ہے، اور یونین کونسل نادرا کے نظام سے MRC جاری کرتی ہے۔

کورٹ میرج میں کتنا خرچ آتا ہے؟

فیس شہر، جلدی، کاغذات اور اس بات پر منحصر ہے کہ ترجمہ، نوٹری یا غیر ملکی شریک حیات کا کام شامل ہے یا نہیں۔ ہم تفصیل دیکھ کر فیس بتاتے ہیں۔

قانونی بنیاد

  • مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961: دفعہ 5نکاح کی رجسٹریشن
  • صوبائی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ قوانینکم از کم عمر، اوپر دی گئی فہرست کے مطابق

اپنی کورٹ میرج کے بارے میں بات کریں

اپنا شہر، قومیت، ازدواجی حیثیت اور موجود کاغذات بتائیں۔ ہم طریقہ کار سمجھائیں گے۔